8/20/2018         ویزیٹ:304       کا کوڈ:۹۳۶۹۱۴          ارسال این مطلب به دیگران

معصومین(ع) ارشیو » معصومین(ع) ارشیو
  ،   امام محمد باقر علیہ السلام کا عہد

امام محمد باقر علیہ السلام کا عہد


اب امام محمد باقر علیہ السلام کا دور آتا ہے۔ امام محمد باقر ٴ میں بھی ہم اسی طریقہ کار کا مشاہدہ کرتے ہیں، جس پر امام سجاد ٴ گامزن ہیں۔ اب حالات نسبتاً کچھ بہتر ہوچکے ہیں چنانچہ امام محمد باقر ٴ بھی معارف اسلامی اور تعلیمات دینی پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ اب لوگ خاندان پیغمبر 0 کی طرف سے پہلے جیسی بے اعتنائی و سرد مہری نہیں برتتے لہذا جب امام ٴمسجد میں داخل ہوتے ہیں تو کچھ لوگ ہمیشہ ان کے ارد گرد حلقہ کرکے بیٹھ جاتے ہیں اور آپ ٴ سے مستفید ہوتے ہیں۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے امام محمد باقر علیہ السلام کو مسجد مدینہ میں اس عالم میں دیکھا کہ خراسان کے دور دراز علاقوں اور دوسرے مقامات سے تعلق رکھنے والے افراد آپ ٴ کے چاروں طرف جمع تھے۔ اس بات سے پتہ چلتا ہے کہ تبلیغات کا اثر اب کسی موج کی مانند پوری اسلامی دنیا میں پھیل رہا تھا اور دور دور کے لوگ اہل بیت ٴ سے نزدیک ہورہے تھے ۔ ایک دوسری روایت یوں ہے: اہل خراسان آپ ٴ کو اپنے گھیرے میں لئے بیٹھے تھے اور حضرت ٴ ان لوگوں سے حلال و حرام سے متعلق گفتگو فرمارہے تھے۔
اس وقت کے بڑے بڑے علمائ آپ ٴ سے درس لیتے اور مستفید ہوتے تھے۔ عکرمہ جیسی مشہور و معروف شخصیت جو ابن عباس کے شاگردوں میں سے تھے جس وقت امام ٴ کی خدمت میں پہنچتے ہیں تاکہ آپ ٴ سے حدیث سنیں تو ان کے ہاتھ پاو ں میں ایک تھرتھری سے پڑی جاتی ہے اور امام ٴ کی آغوش میں گرپڑتے ہیں۔ بعد میں اپنی اس حالت پر تعجب کا اظہار کرتے ہوئے عکرمہ کہتے ہیں: میں نے ابن عباس جیسے بزرگ کی خدمت میں حاضری دی ہے اور ان سے حدیث بھی سنی ہے، مگر اے فرزند رسول 0 ! آپ کی خدمت میں پہنچ کر میری جو کیفیت ہوئی اس حالت سے میں کبھی بھی دوچار نہیں ہو اتھا۔ ملاحظہ فرمائیں جواب میں حضرت ٴ کیسے دو ٹوک الفاظ میں فرماتے ہیں:
و یحک یا عبید اهل الشام ، انک بین یدی بیوت اذن الله ان ترفع و یذکر فیها اسمه ۔‘‘
’’ اے اہل شام (حکومت )کے بندہ بے دام ! اس وقت تو ایک معنوی عظمت کے رو برو کھڑا ہے یہی وجہ ہے کہ تیرے ہاتھ پاو ں تیرے قابو میں نہیں ہیں۔‘‘
ابو حنیفہ جیسی شخصیت جن کا اپنے دور کے صاحب نظر فقہا میں شمار ہوتا ہے، احکام دین اور معارف اسلامی کی تحصیل کے لئے امام ٴ کی خدمت میں حاضری دیتی نظر آتی ہے۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے دوسرے بڑے بڑے علمائ کے نام حضرت ٴ کے شاگردوں کی طویل فہرست میں نظر آتے ہیں۔
حضرت ٴ کا علمی شہرہ اطراف و اکناف عالم تک پہنچ چکا تھا اسی وجہ سے آپ ٴ باقر العلوم کے نام سے مشہور ہوئے۔
پس آپ نے دیکھا کہ امام محمد باقر ٴ کے زمانہ میں معاشرے کی حالت کس قدر بدل گئی تھی اور آئمہ کے بارے میں لوگوں کے محبت و احترام کے جذبات میں کس قدر اضافہ ہوگیا تھا۔ اسی نسبت سے امام محمد باقر ٴ کی سیاسی جدوجہد میں بھی تیزی نظر آتی ہے۔ یعنی عبدالملک بن مروان کے مقابلہ میں امام سجاد ٴ کا کوئی سخت اور درشت کلام اور کوئی ایسا جملہ نہیں ملتا جسے آپ ٴ کی طرف سے اس کی مخالفت کی علامت کہا جاسکے۔ اگر عبدالملک سید سجاد ٴ کو کسی موضوع پر خط لکھتا ہے اور حضرت ٴ اس کا جواب دیتے ہیں تو اگرچہ فرزند نبی ٴ کا جواب ہمیشہ ہر رخ سے محکم و متین اور دندان شکن ہوتا ہے پھر بھی اس خط میں اس کی کوئی صریح مخالفت اور اعتراض دکھا ئی نہیں دیتا ۔ لیکن امام محمد باقر علیہ السلام کا مسئلہ دوسرے ہی انداز کا ہے۔ آپ ٴ کا طرز عمل ایسا ہے کہ اس کے سامنے ہشام بن عبدالملک خوف و وحشت محسوس کرتا ہے اور یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ امام ٴ پر نظر رکھنا ضروری ہے ۔ چنانچہ وہ آپ ٴ کو شام لے جانا چاہتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سید سجاد ٴ کو بھی آپ ٴ کی امامت کے دوران (حادثہ کربلا اور اسیری اہل حرم کے بعد دوبارہ)قید کرکے پابہ زنجیر شام لے جایا گیا ہے لیکن وہ دوسری نوعیت تھی اور سید سجاد ٴ ہمیشہ بڑا ہی محتاط طرز عمل اپناتے تھے جبکہ امام محمد باقر ٴ علیہ السلام کی گفتگو کا لہجہ سخت تر نظر آتا ہے۔ میں نے امام محمد باقر ٴ کی اپنے اصحاب کے ساتھ گفتگو پر مشتمل چند روایتیں دیکھی ہیں جن میں امام ٴ حکومت اور خلافت و امامت کے لئے انہیں آمادہ کرتے ہیں حتی انہیں مستقبل قریب کے لئے خوشخبری دیتے نظر آتے ہیں ، ان میں سے ایک روایت بحارالانوار میں اس مضمون کے ساتھ نقل کی گئی ہے : حضرت ابی جعفر (امام محمد باقر ٴ)کا در دولت لوگوں سے بھرا ہوا ہے۔ ایک بوڑھا شخص عصا ٹیکتا ہوا آتا ہے اور سلام و اظہار محبت کے بعد حضرت کے نزدیک بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے :
’’ خدا کی قسم میں آپ کو دوست رکھتا ہوں اوراس کو بھی دوست رکھتا ہوں جو آپ کو دوست رکھتا ہے ، اور خدا کی قسم یہ دوستی دنیاوی مفادات کی لالچ کی خاطر نہیں ہے۔ اور بے شک میں آپ کے دشمنوں سے بغض رکھتا ہوں اور ان سے برا ت چاہتا ہوں ، اور بے شک میں آپ کے دشمنوں ان سے ذاتی عداوت یا بدلہ کے باعث نہیں ہے۔ خدا کی قسم میں نے اس شئے کو حلال سمجھا ہے جس کو آپ نے حلال قرار دیا ہے اور اس کو حرام سمجھا ہے جس کو آپ نے حرام قرار دیا ہے، میں آپ کے امر کا منتظر ہوں۔ پس میں آپ پر فدا ہوجاو ں کیا میں اپنی آنکھوں سے آپ کی کامیابی کے دن دیکھ سکوں گا؟‘‘
اس روایت میں آخری جملہ غور طلب ہے، آنے والا امام ٴ سے سوال کرتا ہے: کیا آپ ٴ یہ سمجھتے ہیں کہ میں اپنی آنکھوں سے آپ ٴ کی کامیابی کے دن دیکھ سکوں گا ؟ کیونکہ میں آپ ٴ کے امر ، یعنی آپ ٴ کی حکومت دیکھنے کا منتظر ہوں۔ اس دور میں امر یا ھذا الامر یا امرکم کی تعبیریں حکومت کے معنی میں استعمال ہوتی تھیں۔ اس طرح کی تعبیر کیا آئمہ ٴ اور ان کے اصحاب اور کیا ان کے مخالفین ہر ایک کے درمیان ان ہی معنوں میں مستعمل تھیں۔ مثلاً مامون رشید سے گفتگو کرتے ہوئے ہارون کہتا ہے: والله لو تنازعت معی فیه ذا الامر ۔‘‘ (بخدا اس امر ( خلافت)کے سوا ان سے ہمارا کوئی تنازع نہیں ہے۔)
ظاہر ہے کہ یہاں ’’ هذا الامر ‘‘ سے خلافت و امامت ہی مراد ہے۔ لہذا مذکورہ بالا روایت میں ’’ انتظر امرکم ‘‘ کا مطلب امام کی حکومت و خلافت کا انتظار ہے۔ بہرحال وہ شخص سوال کرتا ہے کہ مولا! کیا آپ ٴ کو امید ہے کہ میں اس وقت تک زندہ رہوں گا اور آپ ٴ کی حکومت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکوں گا؟
امام ٴ نے اس کو اپنے قریب بلایا اور اپنے پہلو میں جگہ عنایت فرمائی ، پھر فرمایا :
’’ایها الشیخ ان علی بن الحسین اتاه رجل فساله عن مثال الذی سئلتنی عنه‘‘
’’ اے شیخ علی بن الحسین ٴ کے پاس ایک شخص آیا تھا اوراس نے بھی ان سے یہی سوال کیا تھا جو تو نے مجھ سے کیا ہے ۔‘‘
البتہ مجھے سید سجاد ٴ سے مروی روایتوں میں یہ سوال نہیں مل سکا ۔ چنانچہ اگر سید سجاد ٴ کے سامنے اس قسم کی گفتگو مجمع عام میں ہوئی ہوتی تو دوسرے بھی اس سے واقف ہوتے اور بات ہم تک بھی ضرور پہنچتی لہذا گمان غالب ہے کہ امام سجاد ٴ نے جو بات رازدارانہ طور پر فرمائی ہے یہاں امام محمد باقر علیہ السلام نے وہی بات علی الاعلان ارشاد فرمائی ہے۔ امام ٴ فرماتے ہیں:
’’ ان تمت ترد علی رسول الله و علی علی والحسن والحسین وعلی علی بن الحسین و یثلج قلبک و یبرد فوادک و تقرعینک و تستقبل الروح والریحان مع الکرام الکاتبین وان تعیش تری ما یقر اللہ بہ عینک و تکون معنا فی السنام لاعلی۔‘‘
پس امام ٴ اس صحابی کو مایوس نہیں کرتے ، فرماتے ہیں :اگر موت آگئی تو پیغمبر اسلام 0 اور اولیائے کرام کی ملاقات سے شرفیاب ہوگئے اور اگر زندہ رہے تو ہمارے ساتھ رہو گے۔
امام محمد باقر علیہ السلام کے کلام میں اس طرح کی تعبیریں موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ امام ٴ اپنے شیعوں کو مستقبل کے بارے میں پر امید رکھنا چاہتے ہیں۔ کافی میں نقل ہونے والی ایک روایت میں قیام کے لئے وقت کا تعین بھی ہوا ہے اور بظاہر یہ چیز بڑی عجیب سی لگتی ہے:
عن ابی حمزه الثمالی بسند عال، قال سمعت ابا جعفر (ع) یقول :
یا ثابت ، ان الله تبارک و تعالی قد وقت هذا الامر فی السبعین فلما ان قتل الحسین (ع) اشتد غضب الله تعالی علی اهل الارض فاخره الی اربعین و مائة و حد ثناکم و اذعتم الحدیث فکشفتم قناع الستر ولم یجعل الله له بعد ذلک و قتا عندنا و یمحو االله و یثبت و عنده ام الکتاب ۔‘‘
’’ خدا وند عالم نے ٧٠ ھ کو حکومت علوی کی تشکیل کے لئے مقدر فرمایا تھا لیکن امام حسین علیہ السلام کے قتل نے خدا وند عالم کو لوگوں سے اتنا ناراض کردیا کہ اس نے اس وقت کو ١٤٠ ھ تک ملتوی کردیا اور پھر ہم نے تم کو اس وقت کی خبردی اور تم نے اس کو افشائ کردیا اور پردہ راز کو اس سے اٹھادیا لہذا اب پروردگار عالم نے ہم کو اس وقت کی کوئی خبر نہیں دی ہے اور خدا کسی بھی چیز کے بارے میں جیسا چاہتا ہے محو یا اثبات کردیتا ہے، دفتر تقدیر اسی کے پاس ہے ۔‘‘
ابو حمزہ ثمالی کہتے ہیں:فحدثت بذلک ابا عبدا لله (ع) فقال : قد کان کذلک ۔‘‘
’’ میں نے امام صادق ٴ کی خدمت میں اس کا تذکرہ کیا ، آپ ٴ نے فرمایا : ہاں ایسا ہی تھا ۔‘‘
١٤٠ ھ امام صادق علیہ السلام کی زندگی کے اواخر کا سال تھا ۔ اور یہ وہی چیز ہے جو اس حدیث مبارکہ کے دیکھنے سے قبل ہی آئمہ علیہم السلام کے حالات زندگی سے میں نے اخذ کر لی تھی۔ چنانچہ میری نظر میں وہ ممکنہ حکومت جس کے لئے امام سجاد ٴ نے اس انداز سے اور امام محمد باقر ٴ نے اس دوسرے طریقے سے جدوجہد کی اصولی طور پر امام جعفر صادق ٴکے زمانے میں قائم ہوجانی چاہئیے تھی کیونکہ امام صادق ٴ کی شہادت ١٤٨ ھ میں ہوئی ہے اورخدا کی طرف سے تاسیس حکومت کا وعدہ ١٤٠ھ کے لئے تھا اور ١٤٠ ھ کی اہمیت ١٣٥ ھ کے بعد کے دنوں کی اہمیت کے ذیل میں ہمارے پیش کئے گئے،مفروضہ برسر اقتدار نہ آتا اور بنو عباس کی حکومت نہ بنتی تو حالات یقیناً کچھ اور ہوتے۔ گویا حالات کے تحت تقدیر الہی یہی تھی کہ ١٤٠ ھ میں ایک الہی اسلامی حکومت قائم ہوجانی چاہئیے تھی۔
اب یہ ایک دوسری بحث ہے کہ آیا اس آئندہ کے سلسلہ میں خود آئمہ علیہم السلام کی بھی توقعات بندھی ہوئی تھیں اور وہ اس دن کے منتظر تھے یا یہ کہ وہ پہلے سے جانتے تھے کہ قضائ الہی کچھ اور ہی ہے ؟ فی الحال ہم اس بحث کو چھیڑنا نہیں چاہتے ممکن ہے ایک دوسرے مستقبل باب میں اس پر بحث کی جائے۔ سر دست ہماری بحث امام محمد باقر علیہ السلام کے حالات کے سلسلہ میں ہے کہ آپ ٴ نے واضح الفاظ میں تصریح کی تھی کہ ١٤٠ ھ حکومت الہی کی تشکیل کے لئے معین تھا لیکن چونکہ ہم نے اس کی تم کو خبر دے دی اور تم اس کو پردہ راز میں نہ رکھ سکے لہذا خداوند عالم نے اس میں تاخیر کردی۔ اس طرح کی امید بندھانا اور وعدے کرنا امام محمد باقر ٴ کے دور کا اہم امتیاز ہے۔
امام محمد باقر علیہ السلام کی زندگی کے بارے میں گھنٹوں بحث کی ضرورت ہے تاکہ آپ ٴ کی زندگی کی تصویر واضح ہوسکے۔ میں اس سلسلے میں بھی طولانی بحثیں کرچکا ہوں۔ مختصر یہ کہ حضرت ٴ کی زندگی میں سیاسی جدوجہد کا عنصر بالکل واضح ہے، البتہ آپ ٴ گرم مسلح جدوجہد کے حق میں نہ تھے ۔ چنانچہ جب آپ ٴ کے بھائی زید ابن علی آپ ٴ سے مشورہ کرتے ہیں تو حضرت ٴ انہیں قیام سے منع فرماتے ہیں اور جناب زید آپ ٴ کی اطاعت کرتے ہوئے خاموش ہوجاتے ہیں۔
یہ جو دیکھنے میں آتا ہے کہ کچھ لوگ جناب زید کی اہانت پر اتر آتے ہیں کہ امام ٴ نے تو انہیں قیام سے منع کیا تھا پھر بھی جناب زید اٹھ کھڑے ہوئے اور امام ٴ کی اطاعت نہیں کی، یہ ایک غلط تصور ہے۔ جب امام محمد باقر علیہ السلام نے جناب زید کو قیام سے منع فرمایا تو انہوں نے امام ٴ کی اطاعت کی اور قیام نہ کیا۔ پھر جب امام صادق علیہ السلام کا دور آیا تو انہوں نے امام صادق ٴ سے مشورہ کیا اور امام ٴ نے نہ صرف قیام سے منع نہیں فرمایا بلکہ اس سلسلے میں ان کی حوصلہ افزائی بھی کی۔ یہی وجہ ہے کہ جناب زید کی شہادت کے بعد امام صادق ٴ آرزو کرتے ہیں کہ کاش میں بھی زید کے ساتھیوں میں ہوتا۔ لہذا جناب زید کے ساتھ یہ اہانت آمیز برتاو کسی طور درست نہیں ہے۔
بہر حال ، امام محمد باقر علیہ السلام نے مسلحانہ قیام کیوں قبول نہ کیا لیکن آپ ٴ کی زندگی میں سیاسی ٹکراو واضح طور پر نظر آتا ہے اور اسے آپ ٴ کی سیرت میں سے سمجھا جاسکتا ہے جبکہ سید سجاد ٴ کی زندگی میں واضح سیاسی ٹکراو کا احساس نہیں ہوتا۔
جب اس عظیم ہستی کا دور حیات آخری منزلوں پر پہنچنے لگتا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت اپنی سیاسی جدوجہد کو میدان منی میں عزاداری کے ذریعے جاری رکھتے ہیں۔ آپ ٴ وصیت کرتے ہیں کہ دس برس تک منی میں آپ ٴ پر گریہ کیا جائے (تند بنی النوادب بمنی عشر سنین)یہ دراصل اسی سیاسی جدوجہد کو جاری رکھنے کا ایک طریق ہے۔
امام محمد باقر علیہ السلام کی زندگانی میں عام طور پر امام حسین علیہ السلام پر گریہ کے سلسلہ میں حکم ملتا ہے چنانچہ اس ذیل میں مسلمہ روایات موجود ہیں لیکن اور کسی کے سلسلہ میں مجھے یاد نہیں کہ اس طرح کا حکم دیا گیا ہو سوائے اس کے کہ امام رضا علیہ السلام کے بارے میں اتنا ملتا ہے کہ جب آپ ٴ وطن سے رخصت ہونے لگے تو اپنے اہل خاندان کو جمع کیا تاکہ آپ ٴ پر گریہ کریں اور یہ اقدام مکمل طور پر سیاسی مقصد کا حامل ہے۔ البتہ یہ امام ٴ کی رحلت سے قبل کا واقعہ ہے۔ (امام حسین ٴ کے سوا )محض امام محمد باقر علیہ السلام کی شہادت کے بعد گریہ کا حکم نظر آتا ہے اور امام ٴ وصیت کرتے ہیں اور اپنے مال میں سے آٹھ سو درہم دیتے ہیں کہ ان کے ذریعہ منی میں یہ عمل انجام دیا جائے۔
منی عرفات و مشعر بلکہ خود مکہ سے بھی مختلف جگہ ہے۔ مکہ میں حاجی متفرق رہتے ہیں، ہر شخص اپنے اپنے کام میں مشغول ہوتا ہے۔ عرفات کا قیام زیادہ سے زیادہ صبح سے عصرتک رہتا ہے۔ صبح لوگ تھکے ماندے پہنچتے ہیںاور عصر کے وقت واپسی کی جلدی رہتی ہے تاکہ اپنا کام انجام دے سکیں۔ مشعر میں رات کے وقت چند گھنٹوں کا قیام رہتا ہے اس کی حیثیت منی جاتے ہوئے ایک گزرگاہ کی سی ہے۔ لیکن منی میں مسلسل تین راتیں، گزارنی ہوتی ہیں۔ ایسے بہت کم لوگ ہوتے ہیں جو اس دوران میں مکہ چلے جاتے ہوں اور رات کو منی لوٹ آتے ہیں۔

زیادہ تر لوگ وہیں ٹھہرتے ہیں۔ خاص طور سے اس زمانے میں جبکہ وسائل سفر بھی آسانی سے مہیا نہ ہوتے تھے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت عالم اسلام کے مختلف گوشوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد تین شبانہ روز ایک ہی جگہ جمع رہتے تھے۔ ہر شخص با آسانی درک کرسکتا ہے کہ تبلیغات کے لئے اس سے بہتر کوئی دوسری جگہ نہیں مل سکتی۔ جو پیغام بھی پورے عالم اسلام میں پہنچانا مقصود ہو وہ یہاں سے بخوبی نشر کیا جاسکتا ہے۔ خصوصاً اس دور میں جبکہ آج کی طرح ریڈیو، ٹیلی ویژن ، اخبارات یا اسی طرح کے دوسرے ذرائع ابلاغ موجود نہ تھے۔
جب کچھ لوگ اولاد پیغمبر 0 میں سے ایک فرد پر گریہ و زاری کرتے نظر آتے ، تو لازماً وہاں موجود لوگوں کے دلوں میں سوال اٹھتا کہ ان لوگوں کی اشک ریزی کا کیا سبب ہے؟ کسی مرنے والے پر اتنی مدت تک اس شدت کے ساتھ گریہ وزاری نہیں ہوتی، کیا اس متوفی پر کوئی ظلم ہوا ہے؟ کیا اسے ظالموں نے قتل کیا ہے؟ کس نے اس پر ظلم کیا ہے؟۔۔۔ اس طرح کے بے شمار سوالات لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوتے۔ اور یہ ایک انتہائی گہرا ، سوچا سمجھا اور جچا تلا سیاسی اقدام ہے۔
امام محمد باقر علیہ السلام کی سیاسی زندگی کا مطالعہ کرتے وقت ایک اور نکتہ کی طرف میری توجہ مبذول ہوئی اور وہ یہ کہ اپنی خلافت کے حق میں استدلال کا جو طریقہ پہلی صدی ہجری کے نصف اول میں اہل بیت علیہم السلام کی زبان پر جاری رہا ہے امام محمد باقر علیہ السلام بھی اسی کی تکرار کرتے نظر آتے ہیں۔ اس استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ پیغمبر 0 اسلام کے عرب ہونے کی وجہ سے عرب عجم پر فخر کرتے ہیں، آنحضرت کی قربت کی وجہ سے قریش غیر قریش پر فخر کرتے ہیں۔ اگر ان لوگوں کا فخر کرنا صحیح ہے تو ہم تو پیغمبر 0 کے خاندان اوراولاد سے ہیں لہذا سب پر اولویت رکھتے ہیں، اس کے باوجود ہم کو اس حق سے محروم کرکے دوسرے اپنے آپ کو پیغمبر 0 کی حکومت کا وارث قرار دئیے بیٹھے ہیں۔ اگر پیغمبر 0 کی قربت قریش کے غیر قریش پر اور عرب کے غیر عرب پر امتیاز و افتخار کی وجہ ہے تو یہ دوسروں پر ہماری برتری اور اولویت کو بھی ثابت کرتی ہے۔ یہ وہ استدلال ہے جو ابتدائی دور میں بارہا اہل بیت علیہم السلام کی زبان سے بیان ہوا ہے اور اب دوبارہ ٩٥ ھ سے ١١٤ ھ کے درمیان امام محمد باقر ٴ اپنے عہد امامت میں ان کلمات کی تکرار فرماتے ہیں۔ اور اپنی خلافت کے لئے اس استدلال کو سامنے لانا بڑی معنویت رکھتا ہے۔



فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک