2/7/2018         ویزیٹ:573       کا کوڈ:۹۳۵۷۰۴          ارسال این مطلب به دیگران

استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای » استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
  ،    عزادارى کى رسومات

 عزادارى کى رسومات

س1432: ملک کے مختلف علاقوں کى مساجد اور امام بارگاہوں خصوصاً ديہاتوں ميں شبيہ (١) خوانى کى رسومات انجام دى جاتى ہيں اس لئے کہ مذکورہ عمل قديم رسومات ميںسے ہے اور کبھى کبھى اس عمل کا لوگوں کے دل پر مثبت اثر بھى ہوتا ہے مذکورہ رسومات کا کيا حکم ہے؟
ج:  اگر شبيہ خواني، جھوٹ ، اباطيل اور مفسدہ پر مشتمل نہ ہو اور عصرى تقاضوں کے لحاظ سے مذہب حق کے لئے بدنامى کا سبب نہ بنے تو جائز ہے اس کے باوجود بہتر يہ ہے کہ وعظ و نصيحت ، مرثيہ خوانى اور ماتم حسينى کى مجالس برپا کى جائيں۔

س1433:  مجالس اور جلوس کے دوران ڈھول ، دف اور باجا بجانے کا کيا حکم ہے؟ اور ايسى زنجير مارنے کا کيا حکم ہے جس ميں چھرياں لگى ہوئى ہوں؟
ج:  اگر مذکورہ زنجيريں مارنا لوگوں کى نظر ميں مذھب کى بدنامى کا سبب بنے يا قابل توجہ بدنى ضرر کا باعث ہو تو جائز نہيں ہے۔ ہاں ڈھول ، دف، اور باجا اگر متعارف طريقے سے بجايا جائے تو کوئى حرج نہيں ہے۔

س1434:  ايام عزاءميں بعض مساجد ميں متعدد عَلَم نکالے جاتے ہيں جو گراں بہا چيزوں سے بہت زيادہ مزين ہوتے ہيں(2) جسے ديکھ کر دين دار لوگ کبھى کبھى سوال کرتے ہيں کہ اس کا فلسفہ کيا ہے اور بعض اوقات مسجد کے تبليغى پروگراموں ميں خلل بلکہ مسجد کے مقاصد سے تضاد کا سبب بنتى ہے مذکورہ عَلَم کے بارے ميں حکم شرعى کيا ہے؟
ج:  اگر امام حسين عليہ السلام کى مجالس عزا کے شعائر سے ٹکرائے ، يا مذھب کى بدنامى کا باعث ہو يا اس کا مسجد ميں رکھنا عرفاً مسجد کى شا¿ن کے خلاف ہو يا نمازيوں کے لئے باعث مزاحمت ہو تو اس ميں اشکال ہے بلکہ بعض حالات ميںجائز نہيں ہے۔

س1435: اگر کوئى شخص سيد الشہداءکے لئے ” عَلَم “ کى نذر کرے تو آيا امام بارگاہ کى انتطاميہ اس کے قبول کرنے سے انکار کرسکتى ہے؟
ج:  ناذر کا نذر کرنا امام بارگاہ کى انتظاميہ پر لازم نہيں کرتا کہ وہ ” عَلَم “ کو قبول کريں ۔ لہذا اگرانکے پاس عَلَم رکھنے کى جگہ نہ ہو، تاکہ محفوظ رہے تو وہ اسے قبول کرنے سے انکار کرسکتے ہيں۔

س1436:  سيد الشہداءکى مجالس عزاءکى رسومات ميں ” عَلَم“  رکھنے يا جلوس ميں ليکر چلنے کا کيا حکم ہے؟
ج:  بذات خود جائز ہے ليکن مذکورہ امور کو جزءدين شمار نہ کيا جائے۔

س1437:  اگر مجالس عزاءميں شرکت کرنے سے بعض واجبات ترک ہوجاتے ہوں مثلاً صبح کى نماز قضا ہوجاتى ہو تو آيا دوبارہ ايسى مجالس ميں شرکت نہيں کرنا چاہيئے يا يہ کہ ان مجالس ميں شرکت نہ کرنا اہل بيت عليھم السلام سے دورى کا سبب ہے؟
ج:  واضح ہے کہ واجب نماز مجالس عزاءاہل بيت عليھم اسلام ميں شرکت کى فضيلت پر مقدم ہے اور ماتم حسينى ميں شرکت کے بہانے نماز کا ترک کرنا جائز نہيں ہے ليکن اس طرح سے شرکت کى جاسکتى ہے کہ نماز سے مزاحمت پيدا نہ ہو۔

س1438:  بعض دينى انجمنوں ميں ايسے مصائب پڑھے جاتے ہيں جو کسى معتبر ” مقتل“ ميں نہيں پائے جاتے۔اور نہ ہى کسى عالم اور مرجع سے سنے گئے ہيں اور جب ان مصائب کے پڑھنے والوں سے ان کے ماخذ کے بارے ميں سوال کيا جائے تو جواب ديتے ہيں کہ ” اہل بيت نے اس طرح ہميں سمجھايا ہے يا اس طرح ہمارى ہدايت کى ہے“ اور يہ کہ کربلا کا واقعہ فقط کتب مقاتل اور قول علماءميں نہيں پايا جاتا بلکہ ذاکر اور خطيب کے لئے بعض اوقات الہام اور مکاشفہ کے ذريعے امر واضح ہوجاتا ہے ۔ سوال يہ ہے کہ آيا اس طرح مذکورہ واقعات کا نقل کرنا صحيح ہے؟ اور صحيح نہيں ہے توسننے والوں کى کيا ذمہ دارى ہے؟
ج:  مذکورہ طور پر بغير کسى مستند روايت يا ثابت شدہ تاريخ کے ماخذ کے واقعات نقل کرنے کى کوئى شرعى حيثيت نہيں ہے ہاں اگر بيان حال کے عنوان سے نقل کيا جائے اور اس کا جھوٹا ہونا معلوم نہ ہو تو نقل کرنے ميں کوئى حرج نہيں ہے اور سامعينکى ذمہ دارى نہى از منکر کرنا ہے اگر نہى از منکر کا موضوع اور شرائط موجودہوں ۔

س1439:   امام بارگاہ کى عمارت سے کئى لاوڈ اسپيکروں کے ذريعے قرآئت ، قرآن ، مجالس عزاءکى اتنى اونچى آواز آتى ہے کہ شہر کے باہر تک سنى جاسکتى ہے اور ہمسائيوں کا سکون ختم ہوجاتا ہے جبکہ امام بارگاہ کى انتطاميہ اور ذاکرين اس عمل پر اصرار کرتے ہيں، مذکورہ عمل کا کيا حکم ہے؟
ج:  اگر چہ مجالس عزا و مذہبى پروگراموں کا انعقاد مستحبات مؤکد اور بہترين کاموں ميں سے ہے ليکن مجالس عزاءبرپا کرنے والوں پر واجب ہے کہ ہمسائيوں کى مزاحمت اور اذيت سے حتيٰ المقدور اجتناب کريں چاہے وہ لاوڈ اسپيکر کى آواز کم کرنے يا اسکا رخ امام بارگاہ کے اندر کى طرف تبديل کرنے کے ذريعے ہو۔

س1440: جلوس عزا کا محرم کى راتوں ميں آدھى رات تک مستمر رہنے کا کيا حکم ہے؟ جبکہ ڈھول اور بانسرى کا استعمال بھى کيا جاتا ہے؟
ج: سيد الشہداءعليہ السلام اور آپ کے اصحاب عليھم اسلام کے جلوس نکالنا اور اس جيسے دينى مراسم ميں شرکت کرنا مطلوب اور اچھا کام ہے بلکہ اللہ کى قربت حاصل کرنے کا عظيم ترين ذريعہ ہے ليکن ہر ايسے عمل سے پرہيز کرنا چاہيے جو کہ دوسروں کے لئے موجب اذيت ہو يا بذات خود حرام ہو۔

س1441:  عزادارى ميں آلات موسيقى کا کيا حکم ہے؟ مثلاً آرگن (موسيقى کا آلہ ہے جوکہ پيانو سے شباہت رکھتا ہے ) اور دف وغيرہ؟
ج:  آلات موسيقى کا استعمال عزادارى سيد الشہداءميں مناسب نہيں ليکن اس کے باوجود عزادارى کو اسى طرح انجام دينا چاہيے جيسے کہ قديم زمانہ سے رائج ہے ۔

س1442: کچھ عرصے سے ايک چيز معروف ہوئى ہے کہ بدن کے گوشت ميں سوراخ کرکے تالا لگاتے ہيں يا وزن کے باٹ معلق کرتے ہيں اور مذکورہ عمل کو عزادارى سيد الشہداءعليہ السلام سمجھ کر انجام ديتے ہيں ؟کيا حکم ہے؟
ج:  ايسے اعمال کى شرعاً کوئى حيثيت نہيں ہے جو کہ لوگوںکى نظر ميں مذھب کى توہين کا باعث ہوں۔

س1443:  آئمہ عليھم السلام کے مقدس روضوں پر بعض لوگ چہرے کے بل گرتے ہيں اور اپنا سينہ اور چہرہ رگڑتے ہيں اور چہرے پر خراش لگاتے ہيں يہاں تک کہ خون بہنے لگتا ہے اور پھر اس حالت ميں آئمہ عليھم السلام کے حرم ميں داخل ہوتے ہيں ، مذکورہ عمل کا کيا حکم ہے؟
ج:  مذکورہ اعمال کى کوئى شرعى حيثيت نہيں ہے جوکہ آئمہ عليھم السلام کے لئے اظہار غم ، عزادارى اور اظہار ولايت کا غير متعارف طريقہ ہے، بلکہ اگر قابل توجہ بدنى ضرر يا لوگوں کى نظر ميں مذھب کى توھين کا سبب ہو تو جائزنہيں ہے۔

س1444:  بعض علاقوں ميں خواتين دستر خوان ابو الفضل عليہ السلام کے نام سے رسومات انجام ديتى ہيں تاکہ حضرت فاطمہ سلام اللہ عليھا کى شادى کا پروگرام انجام ديا جائے اور اس پروگرام ميں شادى کے گانے گاتى ہيں اور تالى بجاتى ہيں اور پھر ناچنے لگ جاتى ہيں مذکورہ امور انجام دينے کا کيا حکم ہے؟
ج:  مذکورہ محافل اور رسومات اگر جھوٹ اور باطل مفاہيم پر مبنى نہ ہوں اور مذھب کى توہين کا سبب بھى نہ ہوں تو جائز ہيں ليکن رقص اگر ايسى کيفيت کا ہو جو جنسى شہوت کو ابھارے يا فعل حرام کا سبب ہو تو جائز نہيں ہے ۔

س1445:  مجالِس امام حسين عليہ السلام کے عنوان سے جمع شدہ مال ميں سے باقى ماندہ مال کہاں پر خرچ کرنا واجب ہے؟
ج:  باقى ماندہ مال دينے والوں کى اجازت سے نيک اعمال ميں خرچ کيا جاسکتا ہے يا آئندہ سال کى مجالس عزاءميں خرچ کرنے کے لئے محفوظ کيا جاسکتا ہے۔

س1446: ايام محرم ميں عطيات جمع کرنا اور اس کى کچھ مقدار قارى کو کچھ مقدار مرثيہ خوان اور کچھ مقدار خطيب کو دينا اور باقى ماندہ مال کو مجالس عزاءپر خرچ کرنا جائز ہے يا نہيں؟
ج:  اگر عطيات دينے والوں کى اجازت سے ہو تو جائز ہے ۔

س1447:  آيا خواتين کے لئے پردے اور ايسے لباس کے ساتھ جو ان کے بدن کو مستور رکھے ماتمى جلوس ميں شرکت کرنا جائز ہے؟
ج:  عورتوں کے لئے دستوں ميں شرکت کرنا مناسب نہيں ہے۔

س1448:  اگر ماتم آئمہ عليھم السلام ميں قمہ زنى سے کوئى شخص مرجائے تو آيا مذکورہ عمل خود کشى کہلائے گا؟
ج: اگر عام طور پر اس سے موت واقع نہ ہوتى ہو تو خودکشى نہيں ہے۔ ليکن اگر ابتدائے عمل سے جان کا خوف ہو اور قمہ زنى سے موت واقع ہوجائے تو خودکشى کا حکم رکھتى ہے۔

س1449:  آيا خود کشى سے مرنے والے شخص کى مجلس فاتحہ ميں شرکت کرنا جائز ہے؟ اور ان کى قبروں پر فاتحہ قرآئت کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج:   مذکورہ عمل بذات خودجائز ہے۔

س1450: آئمہ عليھم السلام کى ولادت اور عيد بعثت پر ايسے مرثئے اور قصيدے پڑھنے کا کيا حکم ہے جو سامعين کے لئے گريہ کا سبب ہوں؟ اور حاضرين پر پيسے نچھاور کرنے کا کيا حکم ہے؟
ج:  دينى عيدوں کى محافل ميں مراثى اور قصيدے پڑھنا جائز ہے اور اسى طرح مال نچھاور کرنا جائز ہے بلکہ اگر مومنين کے دلوں ميں خوشحالى اور فرح و سرور کے اظہار کى خاطر ہوتو ثواب کا باعث ہے۔

س1451:  آيا خاتون کا مجالس عزاءسے خطاب کرنا جائز ہے جبکہ اسے علم ہو کہ نامحرم اس کى آواز سنيں گے؟
ج:  اگر لہوى کيفيت سے نہ ہو اور نہ ہى مردوں کے لئے اس کى آواز سے حرام ميں مبتلاءہونے کا خوف ہو تو مذکورہ عمل بذات خود جائز ہے۔

س1452:  عا شورا کے دن بعض رسومات انجام دى جاتى ہيں ، مثلاً سرپر تلوار مارنا آگ پر چلنا جو کہ جانى اور بدنى ضرر کا سبب بنتى ہيں اور اس کے علاوہ ديگر مذاہب کے علماءاور پيروکاروں يا باقى دنيا کے عام افراد کے سامنے مذہب اثنا عشرى کو بدنما کرتى ہيں اور کبھى کبھى مذہب کى توہين کا باعث بھى ہوتى ہيں ۔ آپ کى نظر مبارک کيا ہے؟
ج:  مذکورہ امور ميں سے جو چيز انسان کے لئے موجب ضرر ہو يا دين اور مذہب کى توہين کا سبب بنے وہ حرام ہے اور مومنين کا اس سے اجتناب کرنا واجب ہے اور مذکورہ امور ميں سے اکثر چيزيں مذہب اہل بيت کے لئے بدگوئى اور توہين کا باعث ہيں اور يہ ضرر عظيم اور بڑا خسارہ ہے اور يہ ايک واضح امر ہے۔

س1453:  کيا چُھپ کر شمشير زنى کرنا جائز ہے يا آپ کا فتوى عموميت کا حامل ہے؟
ج: شمشيرزنى عرف عام ميں اظہار غم اور حزن کا مظہر شمار نہيں کى جاتى ، آئمہ اور ان کے بعد والے دور ميں اس کا کوئى وجود نہيں تھا اور نہ ہى امام عليہ السلام کى طرف سے مذکورہ عمل کى خاص يا عام طور پر تائيد ملتى ہے۔ اس کے باوجود آج کل مذکورہ عمل مذہب کے لئے توہين اور بدنامى کا سبب بھى ہے لہذا کسى بھى حال ميں جائز نہيں ہے۔

س1454:  جانى اور بدنى ضرر کے لئے شرعى طور پر کيا ضابطہ ہے؟ 
ج: ضابطہ وہ قابل توجہ ضرر ہے جو عقلاءکے نزديک بحيثيت عقلاءمعتبر ہے۔

س1455:  جسم پر زنجير ( بغير چھريوں کے) مارنے کا کيا حکم ہے جيسا کہ بعض مسلمان انجام ديتے ہيں؟
ج:  اگر متعارف طريقے سے اور اس طرح ہو کہ عرفى طور پر حزن و غم کے مظاہر ميں سے شمار کيا جائے اور مذہب حق کى توہين کا سبب بھى نہ ہو تو جائز ہے وگرنہ جائز نہيں ہے۔ 

١) کسى خاص جگہ پرکربلاءکے واقعہ کو اسٹيج شو کے طورپرپيش کرنا يا جلوس کے دوران بعض واقعات کو اسٹيج   شوکے طور پر پيش کرنا۔
2)   ايک بہارى اور طولانى سى لکڑى يا لوہا افقى سطح کا جسے کندھوں پر عزادارى کے جلوس ميں اٹھاتے ہيں اور اسے مختلف اشياءسے زينت ديتے ہيں (البتہ پاکستان اور ہندوستان ميں ايسى علامت نہيں پائى جاتي)۔


فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک