4/27/2017         ویزیٹ:719       کا کوڈ:۹۳۴۱۸۵          ارسال این مطلب به دیگران

استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای » استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
  ،   شکیات اور ان کے احکام

مبطلات نماز .................................................فہرست....................................................قضا نماز


شکیات اور ان کے احکام
 
س525۔ جو شخص نماز کی تیسری رکعت میں ہو اور اسے یہ شک ہو جائے کہ قنوت پڑھا جائے یا نہیں تو اس کا کیا حکم ہے ؟ کیا وہ اپنی نماز کو تمام کرے یا شک پیدا ہو تے ہی توڑ دے۔
 
ج۔ مذکورہ شک کی پرواہ نہیں کی جائے گی، نماز صحیح ہے اور مکلف کے ذمہ کوئی چیز نہیں ہے۔
 
س426۔ کیا نافلہ نمازوں میں رکعات کے علاوہ کسی اور چیز میں شک کی اعتناء کی جائے گی؟ مثلاً یہ شک کرے کہ ایک سجدہ یا دونوں سجدے بجا لایا ہے یا نہیں ؟
 
ج۔ نافلہ کے اقوال و افعال میں شک کی پرواہ کرنے کا وہی حکم ہے جو واجب نمازوں کے اقوال و افعال میں شک کا ہے ، بشرطیکہ انسان محل شک سے نہ گزرا ہو۔ محل شک کے گزر جانے کے بعد شک کی پرواہ نہیں کرنا چاہئیے۔
 
س527۔ کثیر الشک کا حکم یہ ہے کہ وہ اپنے شک کی پرواہ نہ کرے لیکن اگر اسے نماز میں شک ہو جائے تو اس کا کیا فریضہ ہے ؟
 
ج۔ اس کا فریضہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں شک ہو اسے انجام شدہ قرار دے اور اگر اسے انجام شدہ سمجھنے سے خرابی لازم آئے تو اس کے عدم پر بنا رکھے اس سلسلے میں رکعات، افعال اور اقوال کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔
 
س528۔ اگر کوئی شخص چند سال کے بعد اس بات کی طرف متوجہ ہو کہ اس کی عبادتیں باطل تھیں یا وہ ان کے بارے میں شک کرے تو اس کا کیا فریضہ ہے ؟
 
ج۔ عمل کے بعد شک کی پرواہ نہیں کی جاتی اور باطل ہو نے کے علم کی صورت میں ان ہی کی قضا واجب ہے جنہیں بجا لا سکتا ہو۔
 
س529۔ اگر سہو اً نماز کے بعض اجزاء کو دوسرے اجزاء کی جگہ بجا لائے یا اثنائے نماز میں اس کی نظر کسی چیز پر پڑ جائے یا بھولے سے کچھ کہہ دے تو اس کی نماز باطل ہے یا نہیں ؟اور اس پر کیا واجب ہے ؟
 
ج۔ نماز میں بھولے سے جو اعمال سرزد ہو جاتے ہیں وہ بطلان کا سبب نہیں ہیں ، ہاں بعض موقعوں پرسجدہ سہو کا موجب ہو تے ہیں لیکن کسی رکن میں کمی یا زیادتی ہو جائے تو اس سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔
 
س530۔ اگر کوئی اپنی نماز کی ایک رکعت بہو ل جائے اور پھر آخری رکعت میں اسے یاد آ جائے لیکن آخری رکعت میں اس بات کی طرف متوجہ ہو کہ یہ تیسری رکعت ہے تو اس کا شرعی فریضہ کیا ہے ؟
 
ج۔ سلام سے قبل اس پر اپنی نماز کی چھوٹی ہوئی رکعت کو بجا لانا واجب ہے ، اس کے بعد سلام پھرے اس حالت میں اگر بھولے سے کچھ زیادہ انجام دیا ہو یا بعض ایسے واجبات چھوٹ جائیں جو رکن نہیں ہیں تو اس پر دو سجدہ سہو بجا لانا واجب ہے اور واجب تشہد کو اس کے مقام پر ترک کر دے تو احتیاط واجب یہ ہے کہ اس کی قضا بھی بجا لائے۔
 
س531۔ نماز احتیاط کی رکعات کی تعداد کا جاننا کیسے ممکن ہے کہ یہ ایک رکعت ہے یا دو؟
 
ج۔ نماز احتیاط کی رکعتوں کی مقدار اتنی ہی ہو گی جتنی احتمالی طور پر نماز میں چھو ٹ گئی ہے۔ پس اگر دو اور چار کے درمیان شک ہو تو دو رکعت نماز احتیاط واجب ہے اور اگر تین اور چار کے درمیان ہو تو ایک رکعت نماز احتیاط واجب ہے۔
 
س532۔ اگر کوئی بھولے سے یا غلطی سے ذکر، آیات قرآن یا دعائے قنوت میں سے کوئی کلمہ ( زیادھ) پڑھ لے تو اس پر سجدہ سہو واجب ہے ؟
 
ج۔ واجب نہیں ہے۔


مبطلات نماز .................................................فہرست....................................................قضا نماز





فائل اٹیچمنٹ:
حالیہ تبصرے

اس کہانی کے بارے میں تبصرے

     
امنیت اطلاعات و ارتباطات ناجی ممیزی امنیت Security Audits سنجش آسیب پذیری ها Vulnerability Assesment تست نفوذ Penetration Test امنیت منابع انسانی هک و نفوذ آموزش هک