۱۳۹۸/۸/۳   2:36  بازدید:46     نماز جمعہ کی خطبیں ارشیو


26 صفر 1441(ھ۔ ق) مطابق با 25/10/2019 کو نماز جمعہ کی خطبیں

 


خطبہ اول

بسم الله الرحمن الرحيم و به  نستعين انه خير ناصر معين

الحمد لله رب العالمين نحمده و نستعینه دنوا من به نتوکل عليه ونحمده على ما کان و نستعينه من امرنا على مايکون الحمدلله حمدا کثيرا دائما سرمدا ۔

محترم نماز گزاران و عزاداران حسینی

السلام علیکم

سب سے پہلے اپنے آپ کو اور بعد میں آپ تمام کو خدا کی بندگی اور تقوٰی الہٰی اپنانے کی نصیحت کرتا ہوں ۔

حمد اور ثناء مخصوص ہیں اس ذات کے لیے کہ جس نے پورے جہان کو تربیت دی ﴿یعنی کس مخلوق کے کیا محرکات ہیں﴾ جتنی بھی صفات ہیں سب اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں جو پورے جہان کو چلانے والا ہے کہ جس کا کوئی همتا (مقابل) بھی نہیں ہے.

الحمدللہ رب العالمین والصلاه والسلام على خير خلقه واشرف بريته حافظ السر و مبلغ رسالاته

درود و سلام ہو اشرف المخلوقات ﴿انسان﴾ پر جس کا شرف دیگر مخلوقات سے کہیں زیادہ ہے ، جو اللہ کے اسرار کے محافظ ہیں ، جو کچھ انہیں وحی کے ذریعے دیا گیا ہے اسے لوگوں تک پہنچانے والے ہیں

 اور ایسا پیغمبر بھیجا جس کے بارے میں خود اللہ تبارک و تعٰالیٰ سورۃ النجم آیت 3 اور 4 میں فرماتا ہے :

وَمَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى(3)  إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَى (4)

اور نہ وہ اپنی خواہش سے بولتا ہے۔ [3] وہ تو صرف وحی ہے جو نازل کی جاتی ہے۔ [4]

کہ جو اپنے ہونٹوں کو حرکت تک نہیں دیتا مگر یہ کے وحی الہی ہوجائے ، لہذا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کچھ فرماتے تھے وہ اپنے آپ سے نہیں بولتے تھے بلکہ وحی الہٰی کے ذریعے گفتگو فرماتے تھے ۔ اس میں غرور و تکبر اور میں ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں تھا کیونکہ جو کچھ اللہ تبارک و تعٰالیٰ چاہتا ، جس کا ارادہ کرتا یا جس کی نیت کرتا تو اپنے نبی کو الہام کر دیتا اور آپ وہی سب کچھ بجا لاتے ۔ اس کو تقوی واقعی کہا جاتا ہے ۔ ہماری نیت میں بھی اس طرح کا تقوٰی ہونا چاہیے ۔

ختمی مرتبت نے فرمایا :

سيأتي على الناس زمان لا ينال الملک فيه إلا بالقتل والتجبر

انسان پر ایک ایسا زمانہ آئے گا  کہ جس میں قتل اور جبر کے ذریعے ملک کو ادارہ کیا جائے گا ۔

ولا الغنى إلا بالغصب والبخل

اس زمانے میں کوئی بھی دولت مند نہ ہو گا مگر غصب (یعنی فرعونیت) کے ذریعے کمائے گا اور بغض و کینہ کے کر کے لوگوں کو عطا نہیں کرے گا ۔

ولا المحبة إلا باستخراج الدين واتباع الهوى

دین سے نکل کر خواہشات نفسانی کی پیروی کرنے کے علاوہ کوئی محبت نہیں ہو گی ۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس زمانے میں ہم کیا کریں؟

ختمی مرتبت نے فرمایا :

فمن أدرک ذلک الزمان فصبر على الفقر وهو يقدر على الغنى

جو بھی اس زمانے کو درک کرے (موجود ہو) تو اسے چاہیے کہ وہ صبر سے کام لے ، اپنی تنگ دستی پر صبر کرے ، اپنے آپ کو دولت مند نہ بنائیں۔

 اور اپنے دین و ایمان کو محفوظ رکھیں ، اگرچہ وہ اس طرح دولت مند ہونے پر قدرت بھی رکھتے ہوں ۔

وصبر على البغضة وهو يقدر على المحبة

اس زمانے میں مومن کے ساتھ لوگ بغض کریں گے لیکن اس کے باوجود وہ محبت اپنا کر صبر کریں گے۔

 جیسا کہ آج کل کہتے ہیں کہ ہم اس لیے اس کے ساتھ تعلقات نہیں رکھنا چاہتے کیونکہ اس کی داڑھی ہے یا یہ عورت باحجاب ہے ۔ یا یہ کہ یہ ایک مسجد کو دوست رکھنے والا شخص ہے ۔

وصبر على الذل وهو يقدر على العز

وہ لوگ باوجود اس کے کہ اگر گناہ گاروں کے ساتھ اپنے آپ کو گناہگار کریں تاکہ ان کو عزت ملے ، لیکن اس کے باوجود وہ ذلت پر صبر کریں گے لیکن گناہ گاروں کا ساتھ نہیں دیں گے لہٰذا انہی اعمال و حرکات کی وجہ سے انہیں اچھا مقام نہیں دیں گے ۔

آتاه الله ثواب خمسين صديقا ممن صدق بي (6)

اگر کسی نے ان سب پر صبر کیا اور اپنے دین اور ایمان کو محفوظ رکھا تو اللہ تعالی انہیں پچاس صدیقین کا ثواب دے گا ، یہ کہ ان صدیقین میں سے ایک صدیق اکبر علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا صدیقہ کبرٰی ہیں ۔

خطبہ دوم

 

محترم نماز گزاران و عزاداران حسینی

اس وقت دنیا میں سب سے بڑا اجتماع اربعین شہدائے کربلا کے نام سے جانا جاتا ہے ، جو ملت اسلامیہ کو وحدت کا احساس اور شعور دلاتا ہے ۔ جو برادران و خواہران اربعین کے اجتماع میں شرکت کرنے گئے ہیں

انہیں اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے جنت طوبیٰ ہے و لیکن جو نہیں جا سکے میں انہیں بھی خوشخبری دیتا ہوں ۔

 

 

 

آقا امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :

جب مومن خدا سے تقاضہ کرتا ہے کہ خدایا مجھے نصیب کر اور صدق نیت و باعث خیر بھی ہو پس اللہ تعالیٰ کو اس کے صدق نیت کا علم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ان کے لیے ایسا ہی اجر لکھتا ہے جیسا انہوں نے انجام دیا ہو، اللہ تعالیٰ بہت زیادہ کریم ہے ۔ (اصول کافی جلد 2 ص 50)

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اربعین کا اجتماع کس نے ترتیب دیا ہے ؟ اربعین جس نے سارے معاملات چاہے وہ سیاسی ، سماجی ، فرہنگی یا اجتماعی ہوں ان سب کو بدل دیا ہے ۔

 

تمام اقوام و ممالک کو حیران کر دیا ہے یہاں تک کہ انہوں نے تعجب سے انگلیاں اپنے دانتوں میں دبا لی ہیں کہ اب انہیں وحدت کے زور سے اور بھی دب کے رہنا ہو گا ۔

 

اس کا جواب یہ ہے کہ اربعین کے اجتماع کا نقشہ کسی انسان ، گروہ یا پھر کسی انجینئر نے نہیں ترتیب دیا ، حتیٰ سب سے بڑے میڈیا کے دعویدار ہالی ووڈ نے بھی اربعین کا بائیکاٹ کیا ہے یعنی ان کے کسی بھی نشریاتی ادارے نے کوئی خبر نہیں دی ہے ۔

 

پس اس اصلی تحریک کا بانی کون ہے ، یہ کہاں سے انجام پا رہا ہے اور کہاں تک جائے گا ؟ اس اجتماع کا خالق یا بانی سب سے پہلے تو خدا وحدہ لا شریک ہے اور جس مقام پر اسے بنایا گیا وہ عرش الہٰی ہے اور جو لوح محفوظ بھی ہے اور خدا خود اس کی حمایت کرتا ہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ خود خدا تعالیٰ ہی نے یہ کیوں انجام دیا ؟

جواب یہ کہ ۛ کیونکہ آقا امام حسین علیہ السلام ہی نے اپنے وجود مقدس کو خدا کے لیے قربان کیا ۔

اللہ تعالیٰ نے یہ اس لیے ترتیب دیا تا کہ اس سے بشریت کو نجات ملے ۔

 اربعین شہدائے کربلا راہ نجات ہے ان لوگوں کے لیے ، جو نفسیاتی امراض اور رفاہ طلبی ﴿صرف اپنے لیے سہولتوں کے پیدا کرنے﴾ میں غرق ہو چکے ہیں ۔ اربعین حضرت آقا امام عصر مہدی عجل اللہ فرجہ کے ظہور کی زمینہ سازی کرتا ہے ۔ اربعین لوگوں کے دلوں کو امام کے قیام کہ جو آخری زمانے میں ہو گا ، آمادہ کرتا ہے ۔ اربعین اسلامی وحدت کے لیے درسگاہ ہے ۔ اربعین خدا کا نور ہے اور منشائے الہٰی ﴿یعنی جس سے فرار ممکن نہیں﴾ ہے ۔ پس خود خدائے تعالیٰ نے اس کی نقشہ کشی یعنی اجتماع کو ترتیب دیا ہے ۔

 

 

بتحقیق

ان الحسین مصباح الہدٰی و سفینۃ النجات

بے شک حسین راہ ہدایت اور کشتی نجات ہیں ۔

اس هفتے کی مناسبت میں سے ایک رحلت حضرت رسول خدا(ص) ہے

اور اسی طرح شھادت حضرت امام حسن (ع) و شھادت حضرت امام رضا(ع) ہے ان مناسبات پرآپ سب کو تعزیت پیش کرتا ہو۔

میں چاہتا ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مناسبت سے کچھ گفتگو کرو۔

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وہ نام جن کے لینے کے بعد ہمیں درود بھیجنا پڑتا وہ قرآن میں پانج بار ذکر ہوچکی ہے۔

1- وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ۝0ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ۝0ۭ اَفَا۟ىِٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓى اَعْقَابِکُمْ۝0ۭ وَمَنْ يَّنْقَلِبْ عَلٰي عَقِبَيْہِ فَلَنْ يَّضُرَّ اللہَ شَـيْـــًٔـا۝0ۭ وَسَيَجْزِي اللہُ الشّٰکِرِيْنَ۝144

144۔ اور محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تو بس رسول ہی ہیں ، ان سے پہلے اور بھی رسول گزرچکے ہیں ، بھلا اگر یہ وفات پا جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو کیا تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟ اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا وہ اللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا، اور اللہ عنقریب شکر گزاروں کو جزا دے گا۔

2- مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّـبِيّٖنَ۝0ۭ وَکَانَ اللہُ بِکُلِّ شَيْءٍ عَلِــيْمًا۝40ۧ

40۔ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ہاں وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیّین ہیں اور اللہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے۔

3- وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَاٰمَنُوْا بِمَا نُزِّلَ عَلٰي مُحَمَّدٍ وَّہُوَالْحَقُّ مِنْ رَّبِّہِمْ۝0ۙ کَفَّرَ عَنْہُمْ سَـيِّاٰتِہِمْ وَاَصْلَحَ بَالَہُمْ۝2

2۔ اور جو لوگ ایمان لائے اور صالح اعمال بجا لائے اور جو کچھ محمد ؐپر نازل کیا گیا ہے اس پر بھی ایمان لائے اور ان کے رب کی طرف سے حق بھی یہی ہے، اللہ نے ان کے گناہ ان سے دور کر دئیے اور ان کے حال کی اصلاح فرمائی۔

4- ٢٩۔ مُحَمَّد رَسُولُ اللَّہِ وَ الَّذینَ مَعَہُ أَشِدَّاء ُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَماء ُ بَیْنَہُمْ

اور سورہ فتح آیت 29 میں فرماتے ہیں محمد رسول اللہ اور جو مومنین  آپ (ص) کے ساتھ ہے وہ دشمنوں پر سخت غضب ناک لیکن اپنوں کے درمیان رحم کرنے والے ہیں۔

5- اور سورہ صف آيت 6 میں فرمایا:  وَاِذْ قَالَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَـمَ يَا بَنِىٓ اِسْرَآئِيْلَ اِنِّىْ رَسُوْلُ اللّـٰهِ اِلَيْکُمْ مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ التَّوْرَاةِ

وَمُبَشِّرًا بِرَسُوْلٍ يَّاْتِىْ مِنْ بَعْدِى اسْمُهٝٓ اَحْـمَدُ ۖ

فَلَمَّا جَآءَهُـمْ بِالْبَيِّنَاتِ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِيْنٌ (6)

اور جب عیسٰی بن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل! بے شک میں اللہ کا تمہاری طرف رسول ہوں (اور) تورات جو مجھ سے پہلے نازل ہوا ہے اس کی تصدیق کرنے والا ہوں

 اور ایک رسول کی خوشخبری دینے والا ہوں جو میرے بعد آئے گا اس کا نام احمد ہو گا،

 پس جب وہ واضح دلیلیں لے کر ان کے پاس آگیا تو کہنے لگے یہ تو صریح جادو ہے۔

علی لعنت الله علی القوم الظالمین و سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون