۱۳۹۶/۲/۱۱   2:34  بازدید:733     استفتاءات: آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای


مالی سال کی تعیین

 


مالی سال کی تعیین
 
س1015۔ جو شخص اس بات سے مطمئن ہو کہ سال کے آخر تک اس کی سال بہر کی آمدنی میں سے ایک پیسہ بھی نہیں بچے گا بلکہ جو کچھ اس کمائی اور منافع ہے وہ درمیان سال ہی میں روٹی اور کپڑے پر خرچ ہو جائے گا تو کیا اس کے باوجود اس پر خمس کی تاریخ معین کرنا واجب ہے ؟اور کیا آغاز سال کا تعین واجب ہے ؟ اور اس شخص کا کیا حکم ہے جو اپنے اس اطمینان کی بنا پر کہ اس کے پاس زیادہ پیسہ نہیں ہے ، خمس کے سال کا تعین نہیں کرتا ہے ؟
 
ج۔ خمس کے سال کی ابتداء مکلف کی تعین و حد بندی سے نہیں ہوتی ہے بلکہ وہ ایک امر واقعی ہے جس کا آغاز ہر شخص کی کمائی کے آغاز کے ساتھ ہی ہو جاتا ہے۔ مثلاً جو شخص زراعت کرتا ہے اس کے لئے سال کا آغاز کھیتی کاٹنے کے وقت سے ہو گا اور ملازمت پیشہ لوگوں کے سال کا آغاز کھیتی کاٹنے کے وقت سے ہو گا اور ملازمت پیشہ لوگوں کے سال کا آغاز وصول کرنے کا وقت ہے ، آغاز سال اور سالانہ آمدنی کا حساب خود مستقل واجب نہیں ہے یہ صرف اس لئے کہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس پر کتنا خمس واجب ہے ، پس اگر اس کی کمائی میں اس کے پاس کچھ بھی باقی نہ بچے بلکہ جتنا وہ کماتا ہے اس کو اپنی زندگی پر خرچ کر دیتا ہے تو اس پر ان امور میں سے کچھ بھی واجب نہیں ہے۔
 
س1016۔ کیا مالی سال کا آغاز کام کے پہلے مہینہ سے ہوتا ہے ؟ یا پہلا مہینہ ماہانہ تنخواہ وصول کرنے سے متعلق ہے ؟
 
ج۔ ملازمت کرنے والوں کا خمس کا سال اس دن سے شروع ہو جاتا ہے جس دن تنخواہ پاتے ہیں یا اس کو وصول کرنے پر قادر ہوتے ہیں۔
 
س1017۔ خمس ادا کرنے کے لئے سال کی ابتداء کا کیسے تعین ہوتا ہے ؟
 
ج۔ کارندوں اور ملازمت پیشہ افراد کے خمس کے سال کی ابتداء اس تاریخ سے ہوتی ہے جس دن وہ اپنے کام و ملازمت کا پہلا ثمرہ حاصل کرتے ہیں لیکن تاجروں کے سال کی ابتداء ان کی خرید و فروخت شروع کرنے کی تاریخ سے ہوتی ہے۔
 
س1018۔ غیر شادی شدہ جوانوں پر جو اپنے والدین کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں ، خمس کی تاریخ کا تعین کرنا واجب ہے ؟ اور ان کے سال کی ابتداء کب سے ہو گی؟ اور اس کا وہ حساب کریں گے؟
 
ج۔ اگر غیر شادی شدہ جوان کی ذاتی کمائی ہو ، خواہ قلیل ہی کیوں نہ ہو تو اس پر واجب ہے کہ خمس کی تاریخ معین کرے تاکہ اس سے سال بہر کی آمدنی کا حساب ہو کہ اگر سال کے آخر میں اس کے پاس کوئی چیز باقی بچے تو اس کا خمس دے اور خمس کے سال کا آغاز پہلے فائدے کے حصول کے دن سے ہوتا ہے۔
 
س1019۔ جو میاں بیوی اپنی اپنی آمدنی سے مشترک طور پر گھر کے اخراجات پورا کرتے ہیں تو ان کے لئے ممکن ہے کہ مشترکہ طور پر اپنے خمس کی تاریخ بھی معین کریں ؟
 
ج۔ ان میں سے مستقل طور پر ہر ایک کے لئے خمس کی تاریخ ہو گی بس سال کے آخر میں ان سے ہر ایک پر تنخواہ اور سال بہر کی آمدنی میں سے خرچ کرنے کے بعد جو کچھ بچے گا اس پر خمس دینا واجب ہے۔
 
س1020۔ میرے اوپر گھر کی ذمہ داری ہے ، میں امام خمینی(رح) کی مقلد ہوں۔ میرے شوہر نے خمس کی تاریخ معین کر رکھی ہے جس میں وہ اپنے اموال کا خمس نکالتے ہیں مجھے بھی کچھ آمدنی ہوتی ہے پس کیا خمس ادا کرنے کے لئے میں بھی اپنی تاریخ معین کرسکتی ہوں اور کیا اپنے خمس کے سال کی ابتداء اس حاصل ہونے والے اولین فائدے سے کرسکتی ہوں جس کا میں نے خمس نہیں دیا ہے اور سال کے آخر میں گھر کے اخراجات سے جو کچھ بچ جائے اس کا خمس ادا کروں اور کیا درمیان سال جو پیسہ میں زیارت پر یا ہدایا خریدنے میں خرچ کرتی ہوں اس پر بھی خمس ہے ؟
 
ج۔ آپ پر واجب ہے کہ خمس کے سال کی ابتداء اس دن سے کریں جس دن آپ کو سال کی پہلی آمدنی حاصل ہوئی اور سال کے دوران اپنی آمدنی یا کمائی سے جو کچھ ان امور پر خرچ کرتی ہیں جنہیں آپ نے بیان کیا ہے اس میں خمس نہیں ہے لیکن سال کے اخراجات کے بعد کمائی میں سے جو کچھ بچ جائے اس کا خمس دینا واجب ہے۔
 
س1012۔ کیا خمس کی تاریخ شمسی یا قمری سال کے اعتبار سے معین کرنا واجب ہے ؟
 
ج۔ اس سلسلہ میں مکلف کو اختیار ہے۔
 
س1022۔ ایک شخص کا کھنا ہے کہ اس کے خمس کے سال کا آغاز سال کے گیارہویں مہینہ سے ہوتا ہے لیکن وہ اسے بھول گیا اور خمس نکالنے سے قبل بارہویں مہینے میں اس نے اس مال سے اپنے گھر کے لئے جانماز، گھڑی اور قالین خرید لیا اور اب وہ اپنے خمس کے سال کا آغاز رمضان سے کرنا چاہتا ہے اس بات کی طرف اشارہ کر دینا ضروری ہے کہ اس شخص پر گذشتہ سال کے سہم امام و سہم سادات کے 83 تومان قرض ہیں اور نہیں وہ قسط وار ادا کررھہے پس مذکورہ سامان (جا نماز ، گھڑی اور قالین) کے سہم امام و سہم سادات کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
 
ج۔ خمس کے سال میں تقدیم و تاخیر صحیح نہیں ہے مگر گذشتہ سال کے منافع کے حساب کے بعد اور اس شرط کے ساتھ کہ اس سے ارباب خمس کو ضرر نہ پہنچے لیکن غیر مخمس مال سے اس نے جو ولی امر خمس یا اس کے وکیل کی اجازت پر موقوف ہے اور اجازت مل جانے کے بعد اس کی موجودہ قیمت کا خمس دینا واجب ہے۔
 
س1023۔ کیا انسان اپنے مال کے خمس کا حساب خود کرسکتا ہے پھر جس مقدار میں خمس واجب ہوا ہے آپ کے وکلاء کی خدمت میں پیش کر دے؟
 
ج۔ جس شخص کے خمس کی تاریخ معین ہے وہ اپنے مال کا خود حساب کرسکتا ہے۔